Blog

Digestive System Homeopathic Awareness Homeopathy in Urdu Mental Health SOLVED CASES

معدہ خرابی تیزابیت درد، ہارٹ اٹیک اور موت کا ڈر، خوف اور فوبیا ۔ کامیاب کیس، ہومیوپیتھک دوائیں اور علاج ۔ حسین قیصرانی

(کیس پریزنٹیشن و کمپوزنگ: محترمہ مہر النسا)

سمبڑیال کے پینتیس سالہ مسٹر ایم نے فون پر رابطہ کیا۔ انہیں علاج کا طریقہ کار اور فیس سٹرکچر سے آگاہ کیا گیا۔ وہ اپنا علاج شروع کرنے پر تیار تھے سو مقررہ وقت پر آن لائن کیس ڈسکس کیا گیا۔ کوئی گھنٹہ بھر انہوں نے اپنے مسائل، ڈاکٹرز اور علاج کی تفصیل بتائی۔ وہ ہر طرح کے علاج سے مایوس ہو چکے تھے اور سمجھتے تھے کہ ان کا مسئلہ لاعلاج ہے۔ کافی عرصے سے گوگل پر سرچ کر رہے تھے کہ شاید کوئی امید مل جائے مگر ہر بار مزید مایوسی، ڈپریشن اور انگزائٹی ہی ملتی تھی۔ یوٹیوب پر ایک ویڈیو دیکھ کر انہیں رابطہ کرنے کی خواہش ہوئی۔

مسٹر ایم شدید قسم کی معدہ خرابی  کا شکار تھے۔ ڈپریشن اور اینگزائٹی بہت زیادہ تھی۔کئی طرح کے ڈر، خوف، فوبیاز اور وہم وسوسے عجیب سوچیں ان کو دن رات الجھائے رکھتے تھے۔ طویل ڈسکشن سے جو اہم معلومات ملیں وہ درج ذیل ہیں۔

۔۔ کچھ بھی کھانے سے معدے میں شدید درد اٹھتا۔ تیزابیت ہونے لگتی۔ دل کی دھڑکن بہت تیز ہو جاتی۔ شدید گھبراہٹ ہونے لگتی۔ معدہ بوجھل ہونے لگتا۔ گیس محسوس ہوتی تھی۔ بایاں بازو سن ہو جاتا۔ ایسا لگتا جیسے ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ معدے کے لیے ٹاپ ڈاکٹرز کے بتائے سیرپ اور کیپسول باقاعدگی سے استعمال کرتے تھے۔ ہر طرح کے لیب ٹیسٹ معدہ دل کے کروائے  لیکن سب رپورٹس کلئیر  آتی تھیں۔ موت کا ڈر بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ دراصل اچانک ہارٹ اٹیک کا بے حد ڈر تھا۔ کہیں کوئی خبر ہارٹ اٹیک سے مرنے کی سنتے پڑھتے تو دل بیٹھ سا جاتا۔ دل کے دورے کا لفظ کہنے، سننے، پڑھنے اور بولنے سے جسم، دل، دماغ کی عجیب کیفیت ہو جاتی۔ کہنے لگے کہ وہ جتنااس لفظ سے بچتے ہیں اُتنا ہی زیادہ ہارٹ اٹیک یا دل کی بیماری کا ذکر سامنے آ ہی جاتا ہے۔

Fear and Phobia of HeartAttack, Sudden Death, Cardiophobia, Thanatophobia ۔

۔ کھانا پینا بہت ہی محدود تھا کیونکہ کھاتے ہی طبیعت اتنی بگڑتی کہ ہسپتال جانا پڑتا۔ بے حد پرہیزی اور ہلکی پھلکی غذا استعمال کرتے۔ زیادہ تر دلیہ وہ بھی تھوڑی سی مقدار میں اور تازہ جوس۔ اتنی دوائیں استعمال کرنے کے باوجود بس یہی کھا پاتے تھے۔ کھانے کے بارے میں سوچ کر بھی طبیعت خراب ہونے لگتی تھی۔ یہ کھاو اور وہ نہ کھاو، اُس وقت یہ کھانا ہے تو اِس وقت یہ کھانا اور پینا ہے۔ ہر غذا اور خوراک کے لئے وہ صحت کے اصولوں (جو انہوں نے گوگل یوٹیوب وغیرہ سے ہارٹ اٹیک سے بچنے کے لئے پڑھ سن سمجھ لئے تھے) پر سختی سے عمل کرتے تھے۔ مگر دوسری طرف کنفیوزن اتنی کہ سگریٹ نوشی کی عادت  نہایت شدید تھی۔ ایک سگریٹ ختم ہونے سے پہلے دوسرا سلگا لیتے تھے۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ سگریٹ پئے بغیر وہ کوئی کام نہیں کر سکتے تھے۔ یہاں تک کہ گاڑی بائیک وغیرہ چلانے سے پہلے اور چلاتے وقت بھی سگریٹ پینا ضروری تھا۔ 

کسی کام یا معاملہ پر فوکس نہیں کر پاتے تھے۔ کاروبار بھی عدم توجہ کا شکار تھا۔ کلائنٹ کے آنے سے پہلے ہی عجیب سی بے چینی انگزائٹی ہونے لگتی تھی۔ مسلسل سگریٹ نوشی جاری رہتی۔ اور جب کوئی کلائنٹ آتا تو اس سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے تھے۔ کاروبار میں دلچسپی ختم ہو گئی تھی۔ دفتر میں سارا دن صوفے پر لیٹ کر سگریٹ پیتے گزرتا تھا۔ 

طبیعت میں مایوسی غالب رہتی تھی۔ ہر وقت یہ ٹینشن کہ مجھے کیا ہو گیا ہے؟ میں کب ٹھیک ہوں گا؟ کیا میرا علاج کسی کے  پاس نہیں ہے۔ ہر وقت اسی ڈپریشن سوچ اور وسوسوں میں رہتے تھے۔ تنگ آ کر گوگل پر گھنٹوں اپنے مسائل سرچ کرتے پڑھتے کہ شاید کوئی حل ملنے کی امید میسر آ سکے۔ مگر ہمیشہ مزید مایوسی لے کر اٹھتے۔ 

نیند بالکل نہیں آتی تھی۔ سکون آور گولیاں بھی گہری نیند سلانے سے اب قاصر تھیں۔ ڈاکٹر نے نیند کی دو گولیاں تجویز کی تھیں۔ لیکن ان سے بھی صرف غنوندگی طاری ہوتی تھی مگر ذہن الجھا رہتا تھا۔ کسی بھی لمحے سکون کی کیفیت نہیں ہوتی تھی۔ دل میں بے چینی بھری رہتی تھی۔ رات کو سوتے وقت سوچیں گھیر لیتی تھیں۔ صبح تھکے ہارے اور شل ہو کر اٹھتے۔

 جسمانی اور اعصابی کمزوری اپنے عروج پر تھی۔ 10 کلو وزن کم ہو گیا تھا۔ چہرے بے رونق ہو گیا تھا۔کہیں بیٹھنا پڑتا تو ٹیک لگا کر بیٹھتے تھے۔جسم تھکا تھکا رہتا تھا۔کوئی بھی ملتا تو حیرت سے یہ ضرورپوچھتا کہ آپ کو کیا ہو گیا ہے۔لوگوں کی ایسی باتیں سن کر مزید پریشانی ہوتی۔ اس لئے ہر ممکن کوشش کرتے کہ ملنے ملانے سے بچا جائے۔ دوست احباب تک کے فون نمبر بلاک کر دئے تھے کہ کسی سے بات بھی نہ کرنی پڑے۔

۔ کہیں جانے سے ڈر لگتا تھا۔ شدید وہم ہوتا تھا کہ اگر راستے میں کچھ ہو گیا تو کیا ہو گا۔ اگر کوئی ہسپتال قریب نہ ہوا تو کیا ہو گا۔ طبیعت اتنی حساس ہو چکی تھی کہ ڈور بیل بجنے سے بھی  ڈر جاتا تھا۔ ہر وقت خوف زدہ  رہتا تھا۔ ڈر دھڑکا لگا رہتا تھا کہ جانے کب کیا ہو جائے۔ چھینک بھی آتی تو  وہم ہوتا کہ کہیں اس کا تعلق بھی دل کے مرض یعنی ہارٹ اٹیک سے نہ ہو۔ کسی  بھی ایسی جگہ جانے سے گریز کرتے جہاں سے ہسپتال نزدیک نہ ہو۔ اکیلے رہنے اور سفر پر جانے سے جان جاتی تھی۔

دماغ میں شدید کشمکش، الجھن، تذبذب کی کیفیت رہتی تھی۔ کسی بھی لمحے ذہن ٹھہرتا نہیں تھا۔ ڈبل مائنڈڈ ہونے کی وجہ سے فیصلے نہیں کر پاتے تھے۔اگر کبھی کسی تقریب میں جانا ہوتا تو کئی دن تک وہ فلم  دماغ میں چلتی رہتی۔ کوشش کے باوجود ان خیالات سے جان نہیں چھوٹتی تھی۔ کانوں میں عجیب عجیب سی آوازیں آتی تھیں۔کبھی کبھی  پرانی مشینری ، بند مشینیں اور   بوسیدہ انجن نظر آتے تھے۔ ذہن اسی طرح کی الٹی سیدھی سوچوں میں گھرا رہتا تھا۔ بہت زیادہ وقت گوگل پر سرچ کرتے گزرتا تھا۔ اپنے ہر مسئلے کے بارے میں گوگل کرنے کی عادت تھی۔

کیس کا تجزیہ، ہومیوپیتھک دوائیں اور علاج ۔۔ ہومیوپیتھی سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کے لئے)۔

چھ سال پہلے مسٹر ایم کی شادی ہوئی۔ حالات کچھ ایسے ہوئے کہ انہی دنوں ایک دوسرے شہر کاروبار کے لئے شفٹ ہونا پڑا۔ گھریلو معاملات اور بزنس کے مسائل کچھ ایسے الجھے کہ دونوں ہی مینیج نہیں کر پائے۔ گھر کی الجھنیں اور معاشی مسائل دونوں نے  مل کر مسٹر ایم کو خاصا الجھا دیا تھا۔ ایک کشمکش تھی کہ کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط ،کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا۔ غلط صحیح، گناہ عذاب ثواب، حلال حرام، یہ کنفیوژن بڑھتی چلی گئی۔صحیح اور غلط کی جنگ نے اب کشمکش کی شکل اختیار کر لی تھی۔ ذہن پر شدید دباؤ تھا لیکن کسی سے اظہار کیا اور نہ بات کی۔ ڈاکٹرز صاحبان کی ساری توجہ میڈیکل ٹیسٹ اور دوائیاں لکھنے پر ہوتی تھی۔ لہٰذا، خود ہی اندر ہی اندر سوچتے اور کڑھتے رہتے یا گوگل ہی واحد سہارا تھا۔

اچانک سے معدے میں اتنی شدید تکلیف اور دل کا اس طرح سے گھبرانا کہ  کارڈیالوجی سنٹر جانا پڑے، یقیناً ایک سٹریس یا پینک اٹیک تھا کیوں کہ ساری میڈیکل رپورٹس کلئیر تھیں۔ مسٹر ایم کا اصل امتحان شروع ہوا جب ذہنی دباؤ انگزائٹی، مستقل ٹینشن بن کر زندگی کی روٹین میں رکاوٹ بن گیا۔ وہ ایک دلدل میں پھنس گئے تھے اس لئے جتنا زور لگاتے، اتنا زیادہ پھنستے چلے جاتے۔ 

لڑکپن سے ہی وہ بہت عبادت بلکہ باقاعدہ تہجد گزار تھے۔ اللہ کریم نے ورد وظیفے اور تسبیحات کی بہت توفیق عطا فرمائی ہوئی تھی۔ اُن کو معلوم تھا کہ اطمینان اور دل کا سکون اللہ کے ذکر میں ہی ہے لیکن کہتے تھے کہ میں کتنا بدنصیب ہوں کہ میری کسی بد اعمالی یا گناہ کی اتنی بڑی سزا یہ ہے کہ مجھے اب کسی بھی بات، عمل اور معاملہ سے سکون نہیں مل پا رہا۔ مسٹر ایم کے نماز روزہ اور عبادات مکمل چھوٹ گئے کیوں کہ نماز کے دوران بھی وہ ٹوٹل کنفیوز رہتے کہ دوسری رکعت یا تیسری، سجدہ پہلا ہے یا دوسرا۔

اعصابی کمزوری اور ناطاقتی بہت بڑھ گئی تو وہ بیوی سے بھی کترانے لگے۔ رشتہ داروں اور گھر والوں سے بھی صرف ہُوں ہاں تک بات ہوتی۔ غصہ آتا تو بے حد شدید۔ پھر یکدم افسوس ہوتا کہ ایسا کیوں کیا۔ کسی کی آہ لگنے سے بہت ڈرتے تھے اس لئے انکار نہیں کر پاتے۔ منہ میں ہر وقت کوئی نہ کوئی ذائقہ رہتا تو کچھ بہتر محسوس کرتے۔ زندگی ایک کھلا تضاد تھی۔ اللہ سے ڈرتے بھی بہت مگر نماز روزہ اور فرائض تک چھوڑ رکھے تھے۔ دل کی بیماری اور صحت کی خرابی کے ہاتھوں پریشانی کی انتہا مگر سگریٹ نوشی بھی بھرپور۔

یہ علامات اور معاملات ہومیوپیتھک دوا اناکارڈیم () کی طرف ہماری راہنمائی کرتے ہیں۔ چوں کہ وہ بہت زیادہ ایلوپیتھک دوائیں استعمال کر چکے اور کر رہے تھے سو نکس وامیکا () سے علاج شروع کیا گیا۔ نکس وامیکا لینے سے تھوڑا سی بہتری ہوئی جو کہ اُن کے لئے بہت ہی زیادہ تھی۔ اُن کی اکثر دوائیں چھوٹ گئیں اور معدہ کو بھی کچھ مسئلہ نہ ہوا۔

اناکارڈیم شروع کرواتے ہی مسٹر ایم ، الحمد للہ، واضح بہتر ہو گئے۔ انہوں نے کچھ اہم فیصلے کئے کہ جن پر سوچ سوچ کر اپنے آپ کو ہلکان کر چکے تھے۔ موڈ مزاج اچھا ہو گیا۔ کھانے پینے میں جو بے حد احتیاطیں، پرہیز جاری تھا وہ نارمل ہونا شروع ہو  گیا۔ وہ زندگی میں واپس  آ گئے۔

 

مسٹر ایم کا فیڈبیک ملاحظہ فرمائیں:۔

صرف ایک ماہ پہلے تک میں اپنے آپ کو لاعلاج تصور کرتا تھا اور الحمد للہ آج میں یہ فیڈبیک لکھ رہا ہوں۔
شائد میں یہ بیان نہ کر پاؤں کہ میں کس کرب میں مبتلا تھا۔ دن کو سکون تھا نہ رات کو چین۔ ذہنی حالت بے حد خراب تھی۔ میں محسوس کرتا تھا کہ میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہوں۔ اعصابی کمزوری بہت زیادہ تھی لیکن سب سے بڑھ کر معدے کی تکلیف تھی۔ کچھ کھاتے ہی معدے میں  درد  ہونے لگتا تھا۔ تیزابیت، گھبراہٹ، گیس  اور شدید بوجھل طبیعت رہتی تھی۔ دل کی دھڑکن بے قابو ہو جاتی تھی۔ اکثر ہسپتال جانا پڑتا تھا۔ کھانا پینا بہت مشکل تھا۔ ہیمو گلوبن سے لے کر ایچ آئی وی تک سب ٹیسٹ کلئیر تھے۔ کئی بار ای سی جی ہوئی مگر کچھ پتا نہیں چلتا تھا۔ڈاکٹر کہتے تھے سب ٹھیک ہے۔ نیند ڈیپریشن انزائٹی کی گولیاں تجویز کرتے تھے۔ دو گولیاں کھا کر بھی گہری نیند نہیں آتی تھی۔ میں سونے کو ترس گیا تھا کیونکہ ذہن ہر وقت الجھا رہتا تھا۔
اینڈوسکوپی بھی کلئیر تھی لیکن حالت دن بدن بگڑ رہی تھی۔ ہر وقت  ڈر لگا رہتا تھا کہ ابھی مجھے کچھ ہو جائے گا اور میں مر جاؤں گا۔
ایک تو کوئی دوائی کام نہیں کر رہی تھی اور دوسرا تشخیص بھی نہیں ہو رہی تھی کہ مجھے ہوا  کیا ہے۔ شدید انگزائٹی کی وجہ سے مسلسل سگریٹ پیتا تھا۔
بہت سے ٹاپ سپیشلسٹ ڈاکٹرز سے علاج کروایا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ میں چار سال اس اذیت میں رہا ۔ بزنس کی طرف کوئی دھیان نہیں تھا۔
یوٹیوب پر ڈاکٹر  حسین قیصرانی کا انٹرویو دیکھا تو کال کی۔ ڈاکٹر صاحب نے  ڈھائی گھنٹے مجھ سے بات کی۔ میری بیماری کے بارے میں چھوٹی سے چھوٹی بات بھی پوچھی اور میرا علاج شروع ہو گیا۔ اللہ کے کرم سے میں خود  کو ٪۹۰ سے زیادہ  بہتر محسوس کرتا ہوں۔ خود میرے لیے بھی یہ معجزاتی اور ناقابلِ یقین بات ہے۔
حیرانی والی بات کہ ڈاکٹر صاحب نے مجھے کوئی پرہیز یا ڈائٹ پلان نہیں بتایا۔ میری صحت دن بدن بہتر ہو رہی ہے۔ میں سب کچھ کھانے پینے اور دوستوں سے ملنے لگا ہوں۔ میں ڈاکٹر صاحب کی تشخیص  اور علاج سے بہت مطمئن ہوں۔ میری سگریٹ نوشی کی عادت میں واضح کمی آئی ہے۔ اب مجھے اُس طرح کی طلب نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر صاحب میری زندگی میں محسن بن کر آئے ہیں۔
الحمدللّٰہ! میں بہت خوش ہوں۔

Write a Comment