27 سالہ مسز K نے حیدرآباد سے کال کی۔ محترمہ بہت پریشان تھیں اور شدید ڈپریشن (depression) کا شکار تھیں۔ ان کے لیے بات کرنا اور اپنی طبیعت کے بارے بتانا بھی مشکل تھا۔ ذہنی انتشار بہت شدت اختیار کر چکا تھا۔ شدید گھٹے ہوئے جذبات، شادی شدہ زندگی کی ناہمواری، بے پناہ ذہنی الجھاؤ، نیند کی کمی، بھوک، پیاس کی عدم موجودگی، احساس کمتری، غصہ، انگزائٹی اور بہت سے مسائل نے شخصیت کو بہت ڈسٹرب کر رکھا تھا۔ تفصیلی گفتگو سے درج ذیل صورت حال سامنے آئی۔
1۔ مسز K   اپنے جذبات کا کبھی بھی اظہار (introvert) نہیں کر پاتی تھی۔ خوشی، غمی، محبت،  نفرت یا غصہ غرض ہر جذبہ دبا ہوا تھا۔ کسی سے بات کرنا بہت مشکل لگتا تھا۔ بات کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی تھی۔ زیادہ تر خاموش رہتی تھی۔ شرمیلا پن ( extremely          shy) بہت زیادہ تھا۔ اگر کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو اپنے گھر والوں سے بھی نہ کہتی تھی۔
2۔ غصہ (anger) بہت شدید آتا تھا لیکن کبھی کسی پر غصہ نکالتی نہیں تھی۔ اندر ہی اندر گھٹتی رہتی تھی۔ شدید جھنجھلاہٹ ہونے لگتی تھی۔ انگزائٹی (Anxiety)  بہت بڑھ جاتی تھی۔دل کرتا  تھا کہ چیزیں توڑ دوں لیکن کبھی ایسا نہیں کر پاتی تھی۔ اور جب غصہ حد سے بڑھ جاتا تو رونے لگتی تھی۔
3۔ ذہن (confuse     mind) الجھا رہتا تھا۔ یہ کروں یا نہ کروں ۔۔۔۔ بات کروں یا نہ کروں ۔۔۔ کوئی بھی فیصلہ (lack     of    decision     power) نہیں لے پاتی تھی۔  ہر معاملے میں کنفیوز رہتی تھی۔ صرف سوچتی تھی اور مسلسل سوچتی تھی لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچتی تھی۔ وہ کبھی طے نہیں کر پاتی تھی کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے یا اسے کیا کرنا چاہیے۔ وہ صحیح اور غلط کی جنگ میں بوکھلائی رہتی تھی۔ ذہن تذبذب کا شکار رہتا تھا۔ دماغ پر ایک دھند (foggy    mind)  سی چھائی رہتی تھی۔ سر بھاری رہتا تھا۔
4۔ شدید احساس کمتری (inferiority       complex) کا شکار تھی۔  ہر معاملے میں اپنی ہی کوتاہی تلاش کر لیتی تھی۔ خوداعتمادی (low     self confidence) بالکل ہی نہیں تھی۔ کسی سے اپنا موقف بیان یا جذبات کا اظہار کرتے ہوئے آواز کپکپانے (shivering        sound) کا احساس ہوتا تھا۔ اور پھر پورے وجود پر کپکپی طاری ہو جاتی تھی اور کسی سہارے کی ضرورت پڑتی تاکہ وہ گر نہ جائے۔ بات کرتے ہوئے بیٹھ جاتی تھی کیونکہ کھڑا رہنا مشکل  ہو جاتا تھا۔
5۔ اکیلی باہر نہیں جا سکتی تھی۔ کسی کے ساتھ جانا بھی بہت مشکل لگتا تھا۔ لوگوں کا سامنا (anti social) نہیں کر سکتی تھی۔ ان سے خوف (insecure)  محسوس ہوتا تھا۔
6۔ ہر وقت منفی سوچیں (negative    thoughts)، وسوسے، ڈر خوف فوبیاز کا دل دماغ پر اثر رہتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ کوئی ان سے مخلص نہیں ہے۔ ان کو توجہ نہیں دی جاتی یا اگنور کیا جاتا ہے۔ سب ان کے دشمن ہیں اور مطلب پرست۔ کسی پر اعتماد نہیں کرتی تھی۔ لوگوں کے رویوں  کے حوالے سے بہت حساسیت تھی۔
7۔ کسی بھی کام کو توجہ (lack    of    concentration) سے نہیں کر پاتی تھی۔ دھیان بھٹکا رہتا تھا۔ خیالات  ایک فلم کی طرح ذہن میں متواتر چلتے رہتے تھے۔ یکسوئی نہیں ملتی تھی۔
8۔ رات کو کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا تھا کہ نیند آ جائے لیکن پرسکون نیند (sleeplessness) نہیں آتی تھی۔ بار بار آنکھ کھلتی تھی۔ گہری نیند نہیں آتی تھی۔ صبح اٹھ کر تازگی کی بجائے تھکاوٹ (fatigue) کا احساس ہوتا تھا۔
9۔ بھوک (loss       of     appetite ) نہیں لگتی تھی۔ اکثر قبض (constipation) رہتی تھی۔  پیاس کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ بس روٹین میں پانی پی لیتی تھی۔
10۔ اگر کبھی کسی معاملے میں اپنی غلطی نہ بھی ہوتی تو بتا نہیں پاتی تھی کہ میری غلطی نہیں ہے۔ الٹا خود کو ہی قصوروار سمجھنے لگتی تھی۔ اگر کوئی حق تلفی کرتا تو آواز نہیں اٹھاتی تھی۔ محترمہ کسی کو بھی کسی بھی بات کے لیے انکار نہیں کر سکتی تھی۔ خود پر جبر کر لیتی تھی۔ ہمت سے زیادہ کام کر لیتی تھی لیکن کسی کو منع نہیں کر پاتی تھی۔
11۔ اکثر ڈراؤنے خواب (  nightmares    /  scary    dreams) آتے کہ ان کی ٹرین چھوٹ گئی ہے اور باقی گھر والے چلے گئے ہیں یا وہ کسی ویرانے میں ہیں اور کوئی ان کا پیچھا کر رہا ہے۔ یہ خواب بھی اکثر آتا کہ ہر طرف پانی ہے۔
12۔ چہرے پر پژمردگی (dullness) چھائی رہتی تھی۔ دیکھنے سے ہی بیمار دکھائی دیتی تھی۔ رنگت پھیکی پڑ گئی تھی۔
خوف:Fear  &  Phobias  
پانی  سے ڈر (fear     of        water)  لگتا تھا۔ جھیل، ندی وغیرہ کے  قریب نہیں جا سکتی تھی۔ نہاتے ہوئے بھی پانی سے خوف محسوس ہوتا تھا۔
پسند /  ناپسند: Desires   & Aversions    
چاول بہت پسند تھے۔  کھانے میں نمک زیادہ لیتی تھی۔ کھانے پر اوپر سے نمک چھڑک کر کھانا بہت پسند تھا۔ فاسٹ فوڈ اچھی لگتی تھی۔ کولڈ ڈرنک پینا روزانہ کی روٹین تھی۔
کیس کا تجزیہ اور علاج   (ہومیوپیتھی سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کے لئے)
مسز K بچپن ہی سے ڈرپوک طبیعت کی مالک تھی۔ انتہائی کم گو اور شرمیلی۔ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ بہنوں کی قابلیت، خوبصورتی اور انداز گفتگو مسز K کو بہت متاثر کرتی تھی۔ سب ان کی تعریف کرتے تو محترمہ کو احساس کمتری کا احساس ہوتا۔ وہ مکمل طور پر بہنوں پر انحصار کرتی تھی۔ ہر جگہ ان کے ساتھ جانا، ان کو باتیں کرتے دیکھنا اور خود خاموش رہنا، کسی معاملے میں اپنی رائے کا اظہار نہ کرنا، اندر ہی اندر بہنوں کا اپنے ساتھ تقابلی جائزہ لیتے رہنا اور خود ہی نتیجہ اخذ کر لینا کہ وہ مجھ سے بہتر ہیں، ان سارے عوامل نے شخصیت سازی کے عمل کو خاصا نقصان پہنچایا تھا۔
وقت کے ساتھ یہ احساس بڑھتا گیا کہ وہ اپنی بہنوں سے کافی پیچھے ہے۔ خوداعتمادی کی شدید کمی انفرادی توجہ کی متقاضی تھی لیکن گھر کا ماحول اس کے لیے سازگار نہیں تھا۔ کم گوئی دھیرے دھیرے سکوت کی شکل اختیار کرنے لگی۔ مسز K   کی خوداعتمادی اس قدر متاثر ہوئی کہ اپنے حق کے لیے بھی بول نہ پاتی تھی۔ اپنی بات منوانے کی کوشش کرتی تو کانپنے لگتی تھی۔ بولنا محال ہوگیا تھا۔ شخصیت کاخلا بڑھتا چلا گیا۔ اس خلا کی بدولت وہ زندگی کا سب سے اہم فیصلہ بھی نہ کر پائی۔ جس کو چاہا اسے حاصل کرنے کی ہمت نہ کر سکی اور صرف گھر کے ماحول سے فرار حاصل کرنے کے لیے خاموشی سے وہاں شادی کر لی جہاں مزاج ملتا تھا نہ دل۔ ان کا خیال تھا کہ ماحول کی تبدیلی سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔
شوہر کی بے اعتنائی نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ محترمہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو گئی۔ ہنسنا چھوڑ دیا۔  ہنسنے کی کوشش کرتی تو رونا آ جاتا تھا۔ اکثر روتی رہتی تھی۔ بھوک، پیاس کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔ شوہر کے وجود سے الجھن ہوتی تھی۔ اس کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی مگر اپنے مسائل کسی سے ڈسکس بھی نہ کر پاتی تھی۔
ہومیوپیتھک دوائیاں اور علاج (ہومیوپیتھی سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کے لئے)۔
یہ واضح طور پر سٹیفی سیگریا  Staphysagria کا کیس تھا۔ تین ماہ کے علاج سے ان میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں مگر وہ کسی وجہ سے علاج جاری نہ رکھ سکی اور رابطہ ختم ہو گیا۔
دو ماہ قبل محترمہ نے دوبارہ رابطہ کیا۔  صورت حال اب خاصی گھمبیر تھی۔ انگزائٹی شدت اختیار کر چکی تھی۔ دماغی کنفیوژن (Confusion)  اور پریشان خیالی بہت زیادہ تھی۔ وہ کچھ بھی سمجھنے اور سمجھانے سے قاصر تھی کہ اسے کیا ہوا ہے۔ ذہن میں گناہ اور ثواب کی شدید جنگ جاری تھی۔ اگر یہ کروں گی تو اللہ ناراض  ہو جائے گا۔۔۔ اگر یہ کہوں گی یا یہ کروں گی تو گناہ ملے گا۔ ان کو لگتا تھا کی زندگی میں جو بھی مسائل ہیں وہ گناہوں کی سزا ہے، اللہ کا عذاب ہے یا پکڑ ہے۔ کسی کی آہ لگ گئی ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی بات کے متعلق بھی فیصلہ کرنےکے قابل نہیں تھی۔ بس مسلسل سوچتی رہتی تھی۔ شدید کشمکش تھی، اضطراب، ڈپریشن اور سوسوسے دن رات رہتے۔ وہ ایک ٖفیصلہ کرتی مگر پھر اُس کے خلاف سوچنے لگ جاتی۔ معدہ بھی اکثر خراب رہنے لگا تھا۔   تیزابیت کی کیفیت ہو جاتی جسے تھوڑا سا کچھ کھا پی لینے سے کچھ آرام آ جاتا۔
اُن کی یہ لئیرہومیوپیتھک دوا  اناکارڈیم کی تھی۔ اُن کو صرف ہومیوپیتھک دوا اناکارڈیم (Anacardium      occidentale) ہی دی گئی۔ اس دوران اُن سے وٹس اپ پر مسلسل رابطہ رہا۔
اگرچہ مسز K اس وقت بالکل ٹھیک ہیں۔ لیکن ان کے لیے مستقل ٹھیک رہنا مشکل ہے کیونکہ ماحول وہی ہے، حالات میں تبدیلی کی کوئی امید نہیں ہےاور محترمہ میں ان حالات سے نکلنے کی جرات ابھی بھی نہیں ہے۔
علاج سے پہلے اورپھر  دو ماہ بعد کی کیفیت محترمہ نے اپنے ریویو / فیڈبیک میں تفصیل سے بیان کی ہے جو کہ نیچے پیش کیا جا رہا ہے۔
میرے لیے بات کرنا شروع سے ہی مشکل تھا۔ گھر میں سب کانفیڈنٹ تھے لیکن میرے اندر سیلف کانفیڈینس (Lack of Confidence) بالکل نہیں تھا۔ جھجھک ہر معاملے میں نمایاں تھی۔ مجھے لگتا تھا سب مجھ سے بہتر ہیں اور میں سب سے کمتر (Inferiority Complex) ہوں۔ میں خود کو پڑھائی یا کسی بھی ایکٹویٹی میں مصروف رکھتی تھی۔ سکول لائف میں ہی سلائی، کڑھائی، کوکنگ اور پینٹنگ سیکھی۔ شائد میں یہ سب اس لیے کرتی تھی کہ سب میری تعریف کریں۔ لیکن سب سے مشکل بات کرنا تھا۔ میں بھوک سے نڈھال ہو جاتی لیکن امی سے کھانا نہیں مانگ سکتی تھی۔ اگر کبھی کوئی کچھ پوچھ لیتا تو زبان لڑکھڑا جاتی تھی، ٹانگیں کانپنے لگتی تھیں اور میں کھڑی نہیں رہ پاتی تھی۔ میں اکیلی باہر نہیں جا سکتی تھی۔ لوگوں سے ڈر لگتا تھا۔ اگر کسی معاملے میں میری حق تلفی ہوتی تو  میں خاموشی سے سہہ لیتی اور اپنے آپ کو ہی قصوروار سمجھنے لگتی تھی۔ ہر وقت رونا آتا رہتا تھا۔ بھوک پیاس نہیں لگتی تھی۔ جب کافی دیر گزر جاتی تو  خود ہی پانی پی لیتی لیکن پیاس کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ مجھے زندگی میں کوئی چارم نظر نہیں آتا تھا۔
میری والدہ تھوڑی ریزرو نیچر کی ہیں۔ عام ماؤں کی طرح  بچوں کو پیار کرنا، گلے لگانا  یہ سب وہ نہیں کرتی تھیں۔ وہ بہترین ماں تھیں مگر ان کی زیادہ توجہ ڈسپلن، پڑھائی اور صاف ستھرائی پر ہوتی تھی۔ میرا دل کرتا تھا کہ وہ مجھے پیار کریں، مجھے گلے لگائیں اور میری تعریف کریں لیکن میں اپنے ان جذبات کا اظہار ان سے کبھی نہیں کر پائی۔ شوہر سے بھی انڈرسٹینڈنگ نہ ہو سکی۔ میں شدید سٹریس، ٹینشن اور ڈپریشن (Stress, Tension         and        Depression) میں رہتی تھی۔
ایک سال پہلے ایک ہومیوپیتھی واٹس ایپ  گروپ (Best    Homeopathy    Whatsapp     Group) میں ہومیوپیتھک ڈاکٹر حسین قیصرانی کے بارے میں پتہ چلا۔ اگرچہ میرے لیے بات کرنا بہت مشکل تھا۔ لیکن کال کرنے پر انھوں نے کچھ ایسے اچھے انداز میں بات کی بلکہ بات چلائی کہ تیس چالیس منٹ جیسے دو منٹ میں ہی گزر گئے۔ مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ میں نے کیا کچھ کہہ ڈالا۔ یہ میری زندگی کا پہلا اور دلچسپ تجربہ تھا۔
علاج شروع ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کی کاؤنسلنگ نے مجھے بہت فائدہ پہنچایا۔ مجھے خود کو جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ میری نیند بہتر ہوئی۔ شدید منفی خیالات جو مجھے گھیرے رکھتے تھے ان سے چھٹکارہ ملا۔ زندگی کچھ نارمل ہونے لگی۔ خود پر اعتماد (Self Confidence) بحال ہونے لگا۔ تین ماہ کے علاج سےمجھ میں واضح تبدیلیاں آئیں لیکن کچھ گھریلو معاملات کی وجہ سے میں علاج جاری نہ رکھ سکی۔
اب دو ماہ پہلے میں نے ڈاکٹر صاحب سے دوبارہ رابطہ کیا۔ میں اب شدید کنفیوژن (Confusion   of    mind) کا شکار تھی۔ دماغ میں آندھیاں چلتی رہتی تھی۔ قوت فیصلہ بالکل نہیں تھی۔ ذہن گناہ ثواب، غلط صحیح، حلال حرام کی کشمکش میں الجھا رہتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ میں اپنے حق کے لیے بات کروں گی تو مجھے گناہ ملے گا۔ میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ مجھے کیا ہو گیا ہے ۔ ہر بات میں کشمکش، مخمصہ اور تذبذب کا سامنا تھا۔ کیا کروں کیا نہ کروں۔۔۔ کروں گی تو کیا ہو گا۔۔۔ اللہ ناراض ہو گیا تو کیا کروں گی۔۔۔ اُس کی آہ لگ گئی تو کہیں پکڑ نہ ہو جائے۔ میری حالت بہت خراب تھی۔ ڈاکٹر حسین قیصرانی ٹاپ ہومیوپیتھک ڈاکٹر تو ہیں لیکن سائیکالوجسٹ (Psychologist) اور سائیکوتھراپسٹ (Psychotherapist) ہونے کی وجہ سے وہ میرے مسائل کو اچھی طرح سمجھ گئے۔ ان کی سائیکوتھراپی نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ ہومیوپیتھی دوائی کے ساتھ کاؤنسلنگ بھی کرتے رہے اور مجھے بہت کچھ رئیلائز کروایا۔
الحمدللہ میں اس مشکل صورت حال سے نکل آئی جس میں ہر وقت منفی سوچیں (Negative       Thoughts) اور وسوسے تھے۔ اب میں بہت بہتر ہوں۔ میں اپنی کیفیت آسانی سے بیان کر لیتی ہوں۔ پہلے کی نسبت خود اعتماد ہوں۔ اب الجھی ہوئی کنفیوز (Double        Minded) بھی نہیں رہتی۔ میں اب کوئی میڈیسن نہیں لے رہی۔
میں ڈاکٹر صاحب کی بہت شکرگزار ہوں۔ ان کے علاج اور توجہ کی بدولت میں اپنے خیالات کا ظہار کر پا رہی ہوں اور آج یہ فیڈ بیک لکھ رہی ہوں۔
میں پہلے بھی کئی بار مختلف ہومیو ڈاکٹرز سے علاج کروا چکی ہوں، مگر اتنی واضح بہتری مجھے کبھی بھی محسوس نہیں ہوئی۔ میں پھر کہنا چاہوں گی  کہ دواؤں کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کی کاؤنسلنگ نے بھی بہت زیادہ مدد اور رہنمائی کی ہے میری۔
اور یہ فیڈ بیک دینے کا اہم مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو علم ہو کہ کسی قسم کی جسمانی بیماری کا نہ ہونا صحت مندی نہیں ہے، اور ہومیوپیتھی صرف عام بیماریوں یعنی نزلہ زکام بخار پیٹ معدہ وغیرہ کا علاج نہیں ہے، بلکہ یہ اس سے کہیں زیادہ ذہنی، جذباتی اور روحانی مسائل کا علاج ہے۔
میری خواہش ہے کہ میرا یہ فیڈبیک اور تفصیلی کیس ڈاکٹر حسین قیصرانی ضرور شئیر کریں۔
——————————————————–