رات کے پچھلے پہر چند چھینکوں سے شروع ہونے والا سلسلہ اگلی صبح تک باقاعدہ زکام اور شام تک پسلیوں کی شدید درد کی شکل اختیار کر گیا۔ بائیں جانب موجود پھیپھڑے میں درد اور پسلی کے گرد سوجن کی وجہ سے مجھے سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگی۔  چوبیس گھنٹوں سے بھی کم عرصہ میں میں خود کو درد اور بخار کی وجہ سے بہت نڈھال محسوس کرنے لگی۔ اپنی حالت کے پیشِ نظر مجھے کسی خطرے کا احساس ہوا اور اس سے پہلے کہ مزید دیر ہوتی میں نے فوراً اپنے ڈاکٹر، ڈاکٹر حسین قیصرانی، سے رابطہ کیا۔ گزشتہ علاج معالجے کی بدولت میں کسی بھی میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں ڈاکٹر صاحب پر بہت بھروسہ کرتی ہوں۔ اس لئے میں نے مزید ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر ڈاکٹر صاحب سے رجوع کرنے میں عافیت جانی۔ 
میری توقع کے مطابق ڈاکٹر صاحب نے کرونا کا شبہہ ظاہر کرتے ہوئے مجھے فوراً باقی گھر والوں سے علیحدگی اختیار کرنے کو کہا اور فوراً میرا علاج شروع کر دیا  لیکن اس سے پہلے میں یہ احتیاطی تدبیر اپناتی میرے شوہر اس وائرس کا شکار ہو چکے تھے۔ میرے شوہر چونکہ ایک مرتبہ پہلے بھی اس بیماری سے گزر چکے ہیں اس لئے ان کا مدافعاتی نظام زیادہ دیر تک کرونا کے خلاف لڑ نہ سکا اور کرونا ان پر بری طرح حاوی ہو گیا۔ پورا ہفتہ وہ شدید بخار، نزلہ اور کھانسی کے زیرِاثر رہے، ان کا نظامِ تنفس بری طرح سے متاثر ہوا جس کی وجہ سے ان کے لئے سانس لینا اور لیٹنا یا سونا بہت ہی دشوار ہو گیا۔
ہم دونوں کی بیماری کی علامات اور سنگینی کو سمجھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے ہمیں نہ صرف ایمرجنسی ہومیوپیتھک ٹریٹمنٹ دیا بلکہ مسلسل ہمارے ساتھ رابطے میں رہے تاکہ ہمیں بروقت ہر وہ دوائی مہیا کر سکیں جس کی ہمیں کسی بھی وقت ضرورت پڑ سکتی تھی۔ یہاں تک کہ چھٹی والے دن بھی وہ چوبیس گھنٹے ہمارے ساتھ رابطے میں رہے جس کے لئے ہم دونوں ان کے بہت مشکور ہیں۔ ان کی اسی لگن اور مناسب علاج کی بدولت ہی الحمدللہ ہم دونوں جلد ہی بیماری سے صحتیابی کی طرف گامزن ہو گئے۔ انہوں نے نہ صرف ہومیوپیتھی ادویات سے ہمارا جسمانی علاج کیا بلکہ اپنی کنسلٹیشن سے ہمیں ذہنی طور پر بھی اس بیماری سے لڑنے کے لئے تیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بیماری سے تندرستی کا یہ سفر ہم نے ہفتوں یا مہینوں کی بجائے چند دنوں میں طے کر لیا اور اب آہستہ آہستہ بحالی کے اس سفر پر گامزن ہیں۔ 
میں تہہ دل سے اپنے رب کی شکر گزار ہوں جس نے مجھے اور میرے شوہر کو زندگی اور صحت عطا کی۔ ساتھ ہی میں تہہ دل سے ڈاکٹر حسین قیصرانی کا  شکریہ ادا کرتی ہوں کہ ان کی قابلیت کی بدولت ہم دورِ حاضر کے سب سے بڑے خطرہ کو بغیر کوئی نقصان اٹھائے اپنے گھر سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو سکے۔
———————