مثانہ بلیڈر  ۔ BLADDER

پیشاب گردوں سے صاف ہو کر مثانہ میں آ کر جمع ہوتا ہے اور پیشاب کی نالی کے ذریعہ خارج ہوتا ہے۔ ہے
گردوں سے مثانہ میں دو نالیوں سے گزر کر آتا ہے۔ یہ نالیاں دونوں گردوں سے مثانہ میں آ کر کھلتی ہیں۔ میڈیکل کی زبان میں ان نالیوں کو یوریٹرز () کہا جاتا ہے۔ پیشاب جہاں سے نکلتا ہے؛ اسے یورتھرا () کہتے ہیں۔

عام طور پر مثانہ کے دو اہم امراض ہیں:

مثانہ کی گرمی

مثانہ میں پتھری

 

مثانہ کے ورم گرمی کی علامات:۔

درد اور پیشاب کا تھوڑا تھوڑا اور جل کر آنا

پیشاب کھل کر بھی آئے تو درد اور جلن ساتھ ہوتا ہے

مثانہ کا ورم اگر زخم کی صورت اختیار کر جائے تو پیشاب کے ساتھ خون اور پیپ بھی آ سکتی ہے۔

ان علامات کی اول درجہ کی دوا کنتھیرس   ۳۰ (ایک سے چار خورا ک روزانہ ) ہے۔

 

مثانہ کی پتھری خارج کرنے کے لئے سارسپر لا ۳۰(دن میں تین چار مرتبہ ) بڑی مفید ثابت ہوئی ہے۔ بشرطیکہ اتنی بڑی نہ ہو جو پیشاب کی نالی سے نکل نہ سکے ۔اگر سائز بڑا ہو تو  اس کا علاج اپریشن سے نکالنا ہے۔

درد: میگ فاس ۳۰   (دن میں تین چار دفعہ )۔
فالج :  کاسٹیکم ۳۰  (دن میں تین چار دفعہ )۔
رسولی:  تھوجا   ۳۰ (ایک خوراک روزانہ یا دقفہ سے)۔

 

خون یا پیپ کا درد کے ساتھ خارج ہونا سوزاک کی بھی علامت ہے۔ سوزاک کیا ہوتا ہے اور مسائل و علامات کیا ہیں؛ اس کی تفصیل ہم علیحدہ مضمون میں بیان کر چکے ہیں۔

مثانہ کی دیگر بیماریاں بھی ہیں  جیسا کہ جسم کے کسی دوسرے حصہ میں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً مثانہ کی کوئی  رسولی وغیرہ ،کینسر ،مثانہ کا پھیل جانا یا سکٹر جانا وغیرہ ۔ ان کے علاج کے لئے موروثی مزاج ، ذاتی و فیملی ہسٹری اور میازم کو پیش نظر رکھنا بہت ضروری ہے جو ایک ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے۔ان معاملات کے بغیر پرانی تکلیف یا بڑی بیماری ()  میں کوئی دوائی واضح فائدہ نہ دے سکے گی ۔

 

 


حسین قیصرانی ۔ سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ ۔ لاہور ۔ فون 03002000210