سپیچ ڈیلے، دماغی، ذہنی جسمانی کمزوری، بولنے چلنے میں دیر – کامیاب کیس، علاج اور ہومیوپیتھک دوائیں – حسین قیصرانی

کیس پریزینٹیشن اور کمپوزنگ: مہر النسا
چار سالہ اے سی (بچے کا نام) کی والدہ چند سال قبل اپنا علاج کروا چکی تھیں۔ اب محترمہ نے اپنے بیٹے کے مسائل ڈسکس کرنے کے ڈنمارک سے رابطہ کیا۔ بیٹا پیدائش کے وقت سے ہی سست بچہ ثابت ہوا تھا۔ وہ جیسے جیسے بڑا ہو رہا تھا اس کے اور اس عمرکے دوسرے بچوں کے درمیان ایک بہت واضح فرق فکرمندی کا باعث بن رہا تھا۔ ذہنی اور جسمانی دونوں سطح پر مسائل گھمبیر تھے۔ کیس کو سمجھنے کے لیے تفصیلی  ڈسکشن کی ضرورت تھی۔ بچہ مناسب انداز میں چل پھر بھی نہیں سکتا تھا، بات نہیں کر سکتا تھا، خود واش روم نہیں جا سکتا تھا۔ اعصاب میں ہم آہنگی تھی نہ ہڈیوں میں جان کہ وہ جسم کا وزن سہار سکیں۔
ڈنمارک میں بچے کا ریگولر چیک اپ ہو رہا تھا اور ان کا خیال تھا کہ اسے نارمل سکول کی بجائے سپیشل بچوں کے ادارے میں بھیجنا پڑے گا۔
Slow Learner
Arrested development
Late Learning to Walk
Late Learning to Talk – Delayed Speech
Anti Social attitude
Mentally and Physically Lazy
Timid and Shy
Fear of Strangers
1۔ اے سی نے ایک سال کی عمر میں کرالنگ شروع کی اور دوسال کی عمر میں اپنا پہلا قدم اٹھایا۔ چار سال کا ہونے کے باوجود وہ سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتا تھا۔ اپنا کوئی  کام خود نہیں کر سکتا تھا۔ بغیر سہارے کے زیادہ حرکت نہیں کر پاتا تھا۔ بیٹھے ہوئے دائیں بائیں ہلتا رہتا تھا۔ یہی صورت حال کھڑے ہونے پر ہوتی تھی۔ ہڈیوں میں طاقت نہیں تھی۔ جوڑ وزن برداشت نہیں کر پاتے تھی۔ اس لیے جسمانی توازن ٹھیک نہیں رہتا تھا۔ جسم بہت پلپلا اورڈھیلا ڈھالا تھا۔ چستی نام کو نہیں تھی۔
2۔ اے سی بول نہیں پاتا تھا۔ جو چند ٹوٹے پھوٹے لفظ بولتا تھا وہ بھی واضح نہیں ہوتے تھے۔ ڈے کئیر سنٹر کنڈرگارٹن میں بہت توجہ کے باوجود اس کے بولنے کی صلاحیت بہتر نہیں ہو پا رہی تھی۔ اگر کچھ کہنا چاہتا تو توتلے پن سے کوئی ایک آدھ لفظ مشکل سے نکل پاتا۔ 
3۔ کسی کی بات کو سمجھ نہیں پاتا تھا اور نہ ہی کسی قسم کا اظہار کرتا تھا۔ اپنی شرٹ کو منہ میں ڈالے چوستا رہتا تھا۔ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلتا نہیں تھا۔ اگرکسی ایک بچے کے ساتھ کھیلتا تھا مگر جیسے ہی کوئی اور کھیلنے آ جاتا تو یہ کھیلنا چھوڑ دیتا تھا۔ زیادہ بچوں کی موجودگی میں ہمیشہ سائیڈ پر ہی رہتا تھا۔ اور جب کسی کے ساتھ کھیلنا شروع کرتا تھا تو تھوڑی دیر بعد اس کی دلچسپی ختم ہو جاتی تھی اور مزید نہیں کھیلتا تھا۔ کسی ایک چیز پر توجہ برقرار نہیں رکھ پاتا تھا۔ ADD
4۔ ایک بڑا مسئلہ اس کے testicles کا اپنی جگہ پر نہ ہونا تھا۔ پیدائشی طور پر ہی اپنی جگہ سے کافی اوپر تھے۔ ڈاکٹرز کا خیال تھا کہ پانچ سال کا ہونے پر اس کی سرجری ضروری ہے۔ 
5۔ اکیلا نہیں بیٹھ کھیل پاتا تھا۔ اسے ہر وقت محافظ کے روپ میں  کوئی نہ کوئی ساتھ چاہیے۔ گھر میں ہر وقت ماں ساتھ ہواور ڈے کئیر میں کسی ٹیچر کے ساتھ۔ مکمل طور پر ماں پر انحصار کرتا تھا۔  وہ بڑا تو ہو رہا تھا مگر ماں کو ایسے ہی سنبھالنا پڑتا تھا کہ جیسے بہت چھوٹا بچہ ہو۔
6۔ خوداعتمادی بالکل نہیں تھی۔ کسی اجنبی کا سامنا نہیں کر سکتا تھا۔ مہمانوں اور نئے بچوں سے گھلتا ملتا نہیں تھا۔ خاموش رہتا تھا۔ اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر پاتا تھا۔ کسی  بھی کام کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ کسی کے قریب جانا یا کسی کا اس کے پاس آنا پسند نہیں کرتا تھا۔
7۔ اپنی کسی حاجت ضرورت کے بارے میں بتا نہیں پاتا تھا۔ وہ سمجھ ہی نہیں پاتا تھا کہ اسے کب واش روم جانا ہے۔ اس لیے مسلسل ڈائیپر استعمال کرنا پڑتا تھا۔
پسند / ناپسند
چاکلیٹ اور چاکلیٹ سے بنی ہوئی چیزیں پسند تھیں۔ 
میوزک بہت پسند تھا۔ ٹی وی پر میوزیکل پروگرام  دیکھتے ہوئے ساتھ ساتھ جھومتا تھا لیکن گنگنا نہیں پاتا تھا۔
کیس کا تجزیہ، دوائیں اور علاج (ہومیوپیتھی سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کے لئے)!
ایک ناسمجھ اور slow learner بچہ تھا۔ پیدائشی طور پر ہی اس جسمانی اور دماغی مسائل شدید نوعیت کے تھے۔ اپنی عمر کے مطابق کوئی بھی سنگ میل عبور نہیں  کر پا رہا تھا کیونکہ ذہن یہ سمجھنے سے قاصر تھا  وہ کیا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس نے چلنے کے لیے تب قدم بڑھایا جب اس کے دماغ کو اس کی سمجھ آئی کہ ایسے چلنا ہے۔ دماغی کمزوری اتنی زیادہ تھی کہ وہ دماغ پر زور نہیں ڈال سکتا تھا۔  جسمانی،اعصابی، ذہنی، دماغی، عضویاتی غرض ہر سطح پر نشوونما کی رفتار بہت سست تھی۔ جسم پلپلا اور پھسپھسا تھا۔ ہڈیوں میں جان نہیں تھی۔ جوڑوں میں طاقت نہ ہونے کی وجہ سے پٹھوں میں توازن نہیں تھا۔ اس وجہ سے مناسب انداز میں حرکت کرنا ممکن نہ تھا۔
جنسی اعضا کی نشوونما بھی عمر سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ testicles باقاعدہ ظاہر نہ ہونا بہت بڑا مسئلہ تھا اور ٹاپ لیول کے ڈاکٹرز  سرجری کا بطور واحد حل مشورہ دے چکے تھے۔
بڑا بھائی جسمانی، جذباتی، ذہنی اور نفسیاتی حوالہ سے نارمل بچہ تھا۔ یہ چیز میں احساس کمتری پیدا کر رہی تھی کیونکہ وہ اپنے بھائی کی طرح کچھ بھی نہیں کر پاتا تھا۔ پیشاب اور پاخانے پر بھی کنٹرول نہیں تھا اور نہ ہی بتا پاتا تھا۔ اسے یہ سمجھنے میں دیر لگ جاتی تھی کہ اسے کب واش روم  جانا ہے اور جب تک وہ سمجھ پاتا دیر ہوچکی ہوتی تھی۔ یہی صورت حال بولنے کی تھی۔ دو چار ٹوٹے پھوٹے الفاظ بول پاتا تھا مگر وہ بھی توتلے انداز میں جن کی سمجھ نہیں آ پاتی تھی۔
میڈیکل سائنس، ڈاکٹرز، سپیشلسٹ، سائیکالوجسٹ، سائیکاٹرسٹ اور تھراپسٹ ایسے بچوں کو آٹزم (Autism Spectrum Disorder or ASD)، اے ڈی ڈی (ADD) کا لیبل لگاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈنمارک میڈیکل اور ایجوکیشن سسٹم نے اپنی رپورٹس میں یہ واضح کر دیا تھا کہ اے سی کو سپیشل سکول میں ہی بھیجا جائے گا۔ والدین کے لئے یہ اعلان اور فیصلہ بہت بڑی پریشانی کا باعث تھا۔ والدین کی درخواست پر کنڈرگارٹن انتظامیہ نے فیصلہ دیا کہ اگر ایک سال میں اے سی کے تمام اہم معاملات میں نارملیٹی آ گئی تو اسے نارمل بچوں کے تعلیمی نظام میں شامل کر لیا جائے گا۔
ہومیوپیتھی طریقہ علاج میں مرض (یعنی آٹزم وغیرہ) کی بجائے مریض، اس کی علامات، میازم، مزاج، ہسٹری، خاندانی ہسٹری اور مجموعی صحت کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اِن تمام معاملات کو سمجھنے پر اے سی کی تشخیص یا مزاجی دوا (Constitutional remedy) بارائٹا کارب منتخب ہوئی اور یہی دوا مختلف پوٹینسی میں بے حد مفید ثابت ہوتی رہی۔
سال بھر سے علاج جاری ہے۔ اس لئے ضرورت اور علامات کے مطابق مندرجہ ذیل دوائیں بھی دی گئیں:
آرم میٹ (Aurum metallicum)۔
میڈورائنم (Medorrhinum)۔
ٹیوبرکولائنم (Tuberculinum Bovinum Kent)۔
کلکیریا فاس (Calcarea phosphorica)۔
سلفر (Sulphur)۔
کلکیریا کارب (Calcarea carbonica)۔
لائیکوپوڈیم (Lycopodium Clavatum)۔
الحمدللہ! اے سی اب بھرپور زندگی کے مزے لے رہا ہے۔ خصئے (testicles) بھی بغیر سرجری آپریشن کے بالکل اپنی صحیح جگہ پر آ چکے ہیں۔ اس مسئلہ کے حل میں آرم میٹ (Aurum metallicum) ٹاپ ہومیوپیتھک دوا ہے۔
ڈاکٹرز، کنڈرگارٹن اور سکول سسٹم نے نارمل بچے کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ کسی قسم کی تھراپی کی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ خوب بولتا، دوڑتا، بھاگتا اور بچوں کے ساتھ کھیلتا کودتا ہے۔ اس نے ڈینش (Danish) کے ساتھ ساتھ انگلش اور اردو بھی اپنی ضرورت کے مطابق بولنی سمجھنی شروع کر دی ہے۔
مزید تفصیل کے لئے والدین کا فیڈبیک ملاحظہ فرمائیں۔
والدین کا فیڈبیک!
میرے بیٹے کی عمر پانچ سال ہے۔  پیدائش کے ساتھ ہی اس کے مسائل سامنے آنے لگے۔ وہ ہر لحاظ سے دوسرے بچوں سے پیچھے تھا۔ اپنی عمر کے دوسرے بچوں کی نسبت ہر کام دیر سے شروع کیا۔ کرالنگ اس نے ایک سال کی عمر میں شروع کی اور جب اس نے چلنے کے لیے پہلا قدم اٹھایا تو وہ دو سال کا ہو چکا تھا۔ یہی صورت حال بول چال کی تھی۔ وہ بہت کم  الفاظ بول پاتا تھا اور وہ بھی واضح نہیں بولے جاتے تھے۔ خود سے کچھ بھی نہیں کر پاتا تھا۔ ایک بچے کے ساتھ کھیل پاتا تھا۔ ایک سے زیادہ بچوں کی موجودگی میں کھیل چھوڑ دیتا تھا۔  ان سب مسائل کے ساتھ ایک بہت بڑا مسئلہ پریشانی کا باعث تھا۔ پیدائشی طور پر ہی اے سی کے خصئے فوطے (testicles) نیچے نہیں آئے تھے۔ میڈیکل ڈاکٹرز کے مطابق پانچ سال کی عمر میں خصیوں فوطوں کی سرجری ہو گی۔
اے سی کو میوزک سننا اور ڈانس کرنا پسند  تھا۔
چار سال کی عمر میں ہم نے  ڈاکٹر حسیں قیصرانی سے اس کا ہومیوپیتھک علاج شروع کیا۔ علاج کے ساتھ ساتھ ہم نے بہت توجہ دی۔ کچھ عرصے میں بیٹے میں مختلف لحاظ سے واضح تبدیلیاں آئیں۔
اب اپنے چھوٹے چھوٹے کام خود کرنے لگا ہے۔ اپنا بیگ خود اٹھا لیتا ہے۔ کسی بڑے کے ساتھ باہر چلا جاتا ہے۔ اپنے جوتے خود اتار لیتا ہے۔ سیڑھیاں چڑھ لیتا ہے۔ خود واش روم جانے لگا ہے۔ اب وہ پہلے سے بہت بہتراور واضح بولنے لگا ہے۔ پورے پورے جملے بھی بولتا ہے۔  اردو، انگلش اور ڈینش میں چھوٹی چھوٹی نظمیں یاد کرتا اور سناتا ہے۔ پہلے وہ میوزک سنتا تھا اور ڈانس کرتا تھا اور اب تو ساتھ ساتھ گاتا بھی ہے۔
مزید یہ کہ وہ رنگوں کو پہچاننے لگا ہے۔ سفید، کالا، پیلا، نیلا، لال، ہرا سب میں فرق سمجھنے بتانے کرنے لگا ہے۔ اب تو جانوروں کو بھی پہچان لیتا ہے۔ ٹی وی پر کسی جانور کو دیکھ کر اسے یاد آ جاتا ہے کہ پہلے کہاں اسے دیکھا ہے۔
پہلے وہ دوسرے بچوں کے ساتھ نہیں کھیلتا تھا خاص طور پر گروپ میں جہاں ایک سے زیادہ بچے ہوں لیکن اب وہ بچوں کے ساتھ فٹ بال اور دوسرے کھیل کھیلتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دوسروں سے گھلنے ملنے لگا ہے۔
ہم نے بیٹے کے testicles کے مسئلے پر بھی ڈاکٹر حسین قیصرانی سے تفصیلی بات کی اور انھوں نے علاج کے دوران اس پرابلم کو بھی مد نظر رکھا۔ تازہ ترین چیک اپ میں ڈاکٹرز نے بتایا کہ سرجری آپریشن کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ سب کچھ بالکل ٹھیک ہے۔
تعلیمی اور کارکردگی کے ماہرین کے تفصیلی معائنے کے مطابق بہت زیادہ بہتری ہے۔ ان کے تجزیے کی روشنی میں ریاضی میں بہت اچھا ہے۔ ویڈیو گیمز بہت اچھی کھیلتا ہےاور مختلف پزل بھی مہارت سے حل کر لیتا ہے۔
اگرچہ منزل ابھی دور ہے کیونکہ جیسے جیسے  بڑا ہو رہا ہے نئے مسائل سامنے آ ئیں گے۔ اگلے سال سے وہ باقاعدہ سکول جائے گا جہاں نئے چیلنج اس کے منتظر ہوں گے۔ اس ساری بہتری کے باوجود وہ اپنی عمر کے بچوں سے پیچھے ہے۔ وہ ابھی بھی شور برداشت نہیں کر سکتا۔
ڈاکٹر حسین قیصرانی سے اس کا آن لائن ابھی بھی علاج جاری ہے۔

kaisrani

kaisrani

Leave a Reply

About Me

Hussain Kaisrani (aka Ahmad Hussain) is a distinguished Psychotherapist & Chief Consultant at Homeopathic Consultancy, Lahore. 

Recent Posts

Weekly Tutorial

Sign up for our Newsletter