انٹرویو، ٹیسٹ اور امتحان کا ڈر – ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی
ایک محترمہ نے فون پر رابطہ فرمایا کہ اُن کے ادارہ میں نہایت اہم پوسٹ پر ترقی دینے کے لئے […]
ایک محترمہ نے فون پر رابطہ فرمایا کہ اُن کے ادارہ میں نہایت اہم پوسٹ پر ترقی دینے کے لئے […]
ڈاکٹر بنارس خان اعوان، واہ کینٹ پلسٹیلا (Pulstilla) اگرچہ صنف نازک کی دوا سمجھی جاتی ہے تاہم جہاں تک بچوں
کانپنا، عجیب و غریب جسمانی حرکت، بے ڈھب چال، ہاتھ، پاؤں اور چہرہ کے عضلات کا بغیر ارادہ پھڑکنے، بعض
یہ فیڈبیک ہے ایک نوجوان بچی کا جو، ماشاءاللہ، آجکل پاکستان کی ٹاپ لیول یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ ہیں۔ مہینہ بھر
سچ تو یہ بھی ہے اب باہر کی دوائی سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ آپ کی دوائی سے ہم کو
ہومیوپیتھک طریقہ علاج کی باقی طریقہ ہائے علاج سے ایک خاص انفرادیت یہ بھی ہے کہ اِس میں ہر مریض
یہ کیس ہے ایک پچیس سالہ، بے حد محنتی اور مہذب نوجوان کا. مستقل محنت اور کام کی زیادتی کی
پیشِ خدمت ہے پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ درانی صاحبہ کا مضمون — دولت کی پیدا کردہ بیماریاں۔ اُن کا یہ مضمون
غریبی اپنے ساتھ جو مصیبتیں لاتی ہے اس کا اندازہ ہر قلبِ حساس بآسانی کرسکتا ہے۔ لیکن ایک غلط معاشرہ
خارش اور کھجلی بہت ہی تکلیف دہ کیفیت و علامت ہے جو کہ مریض کے لئے جسمانی کے ساتھ ساتھ
سر جی! مَیں کافی بہتر ہو گیا ہوں۔ آپ نے بہت محنت کی ہے مگر ابھی کچھ اندر چیزیں ہیں
قدرت نے غیر ضروری یا زائد مواد کے اخراج کے کئی راستے رکھے ہیں – پسینہ، گیس، پیشاپ، پاخانہ، جِلد