Monthly Archives: February 2018

دولت کی پیدا کردہ بیماریاں – پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ درانی

غریبی اپنے ساتھ جو مصیبتیں لاتی ہے اس کا اندازہ ہر قلبِ حساس بآسانی کرسکتا ہے۔ لیکن ایک غلط معاشرہ میں دولت کی فراوانی جس قسم کی تباہیاں لاتی ہے، اس کا تصور عام طور پر نہیں کیا جا سکتا۔ ان تباہیوں کا ایک گوشہ وہ ہے جس کا اندازہ مجھے بہ حیثیت ایک ڈاکٹر کے ہوا۔ اور انہی کی ایک خفیف سی جھلک میں اس وقت آپ کو دکھانا چاہتی ہوں۔ جہاں تک بیماری اور اس کے علاج کا تعلق ہے؛ غریبی کی پیدا کردہ مصیبت ایک ہی نوعیت کی ہوتی ہے۔ مثلاً یہ کہ ایک غریب بیوہ اپنی اکلوتی بیٹی کو لے کر آتی ہے جو ایک خطرناک اور مہلک بیماری کا شکار ہے۔ میں اسے دوائی لکھ کر دیتی ہوں۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ حتیٰ الامکان دوائی سستی ہو۔ وہ نسخہ ہاتھ میں لے کر پوچھتی ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ یہ دوائی بازار سے کتنی قیمت میں ملے گی؟ میں کہتی ہوں؛ پانچ سو روپے میں مل جائے گی۔ "پانچ سو روپے" سُن کر اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ، اس کے ہونٹوں کی تھرتھراہٹ اور اس کی آنکھوں کی نمی، اس کے دل کی ساری کہانی اس کے ماتھے پر لکھ دیتی ہے۔ جب یہ دیکھ کر میری آنکھیں بھی نم آلود ہوجاتی ہیں، تو اُس کے ضبط کئے ہوئے آنسو، ٹپ [...]

دولت کی پیدا کردہ بیماریاں – پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ درانی2018-07-05T00:02:28+05:00

خواتین کی شرمگاہ میں خارش کا ہومیوپیتھک علاج – مرکیورس کیس (پروفیسر ڈاکٹر ایل ایم خان)۔

خارش اور کھجلی بہت ہی تکلیف دہ کیفیت و علامت ہے جو کہ مریض کے لئے جسمانی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی کرب اور تشویش کا باعث بنتی ہے۔ ذرا تصور میں لائیے کہ اگر یہ خارش کسی خاتون کے پرائیویٹ اعضاء یعنی شرمگاہ میں ہو تو کس قدر اذیت اور پشیمانی کا سامان اپنے اندر رکھتی ہو گی؛ اُس عفت مآب کو یہ عارضہ دکھ، شرمندگی اور مستقل بے چینی میں مبتلا کرتا رہتا ہوگا۔یہ کیس ایسے ہی مسئلہ کا شکار ایک محترمہ کا ہے جس کی عمر 25 سال تھی۔ اُس کی شرمگاہ کے متاثرہ حصوں پر جب پیشاپ لگتا تھا تو بے پناہ خارش اور تکلیف ہوتی تھی۔ پانی سے دھونے کے بعد تکلیف کی شدت، البتہ کم ہو جاتی تھی۔ کیس کی تفصیل لینے پر اندازہ ہوا کہ تکلیف کے دو پہلو نمایاں تھے۔ اول یہ کہ رات ہوتے ہی خارش بڑھ جاتی تھی اور دوم یہ کہ حیض سے پہلے تکلیف میں ناقابلِ برداشت حد تک اضافہ ہو جاتا تھا۔ مزید یہ کہ رانوں اور ٹانگوں پر ٹھنڈے، چپچپے پسینے کا احساس رہتا تھا۔ بے جا نہ ہو گا اگر میں عرض کروں کہ ایسی اہم علامات تک پہنچنے کے لئے سنجیدہ کوشش اور پُرخلوص محنت درکار ہوتی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اپنے دل و دماغ کی [...]

خواتین کی شرمگاہ میں خارش کا ہومیوپیتھک علاج – مرکیورس کیس (پروفیسر ڈاکٹر ایل ایم خان)۔2020-09-13T11:43:04+05:00

ایک آن لائن کلائنٹ کے جذبات – ہومیوپیتھک علاج

سر جی! مَیں کافی بہتر ہو گیا ہوں۔ آپ نے بہت محنت کی ہے مگر ابھی کچھ اندر چیزیں ہیں جو تنگ کرتی ہیں۔ ان شاء اللہ وہ بھی بہتر ہو جائیں گی ۔۔۔۔ پھر داوئی کو بھول جائیں گے ۔۔۔ وقت کے حساب سے لیں گے ۔۔۔۔۔۔ سر جی آپ ایک اچھے ڈاکٹر اور انسان ھو ۔۔۔۔۔ خیال رکھنے والے ۔۔۔ اللہ اجر دے آپ کو اب آپ نے میری طرح میری بیگم کو بہتر کرنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس کا خیال کریں گے --------------------------------------------- ذہنی اور نفسیاتی مسائل میں ہومیوپیتھک علاج کے اثرات – ایک مریض کے تاثرات https://kaisrani.com/%D8%B0%DB%81%D9%86%DB%8C-%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C-%DB%81%D9%88%D9%85%DB%8C%D9%88%D9%BE%DB%8C%D8%AA%DA%BE%DA%A9-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC/

ایک آن لائن کلائنٹ کے جذبات – ہومیوپیتھک علاج2018-02-26T00:26:04+05:00

بیماری اور جذبات میں کیا تعلق ہے – میرا نقطہ نظر (حسین قیصرانی)۔

قدرت نے غیر ضروری یا زائد مواد کے اخراج کے کئی راستے رکھے ہیں - پسینہ، گیس، پیشاپ، پاخانہ، جِلد کے اُبھار وغیرہ۔ منفی جذبات - غم و غصہ، نفرت اور صدمہ وغیرہ - کے اخراج کا کوئی مستقل اور آسان راستہ نہیں ہے۔ اِس لئے اِن کو توازن میں رکھنے کی ہدایات اور راہنمائی پر عمل کرنا ضروری ہے۔ آجکل کے تیز رفتار اور مادی دَور میں جذبات میں توازن قائم رکھنا بہت مشکل ہے۔ یاد رکھئے! جذبات کا اثر دل پر پڑتا ہے اور وہ اپنے آپ کو بچانے کے لئے ان نقصان دہ اثرات کو نسبتاً کم اہم اعضاء کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ بلڈپریشر، شوگر، سر درد، نیند اور معدے کی خرابی وغیرہ دراصل جذبات کے توازن کی خرابی ہی کا اظہار ہیں۔ جب تک اصل تکلیف یعنی جذباتی مسائل کا علاج نہیں ہوتا، صحت کی خرابی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے چاہے ہماری ظاہری تکالیف بظاہر کنٹرول میں رہیں۔ اور اِسے بھی یاد رکھئے! کہ جب آنکھ نہیں روتی یعنی جذبات کو اظہار کا موقع نہیں دیا جاتا تو پھر جسم روتا ہے۔ علاج کے دوران (چاہے وہ ہومیوپیتھک ہو، ایلوپیتھک یا کوئی اَور) اگر آپ کے جذبات میں توازن پیدا نہیں ہو پا رہا تو (اللہ نہ کرے) کسی بڑی بیماری کی طرف جانے [...]

بیماری اور جذبات میں کیا تعلق ہے – میرا نقطہ نظر (حسین قیصرانی)۔2018-09-06T13:16:34+05:00

بچوں میں شدید ضد، غصہ اور تنگ مزاجی ۔ ہومیوپیتھک علاج – ڈاکٹر بنارس خان اعوان

اللہ رب العزت نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے، نہ تو وہ مجبور محض ہے اور نہ ہی مختار کل۔ اس لئے فخر کا باعث حسب نسب نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔ لیکن جہاں تک بات ہے بچوں میں ذہنی نزاع کی تو وہ عام انسانی معاملات سے ذرا ہٹ کے ہے، بچوں میں ذہنی امراض ماحول کے علاوہ موروثی بھی ہو سکتے ہیں۔ نومولود بچوں اور بڑے بچوں کے ذہنی امراض میں فرق ہے۔ ایک معصوم بچہ اپنی جسمانی تکلیف کو بتا نہیں سکتا، لیکن اس کی حرکات و سکنات اور جسمانی علامات سے پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ جدید تحقیقات کے کے مطابق بچہ ماں کے پیٹ میں ہی خوشی و غم، مالیاتی تغیر اور بیرونی معاملات کو محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے۔نومولود بچوں پر ذہنی اثرات کو ان کے چڑچڑاپن اور بے چینی اور بے خوابی سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ نومولود بچوں کی بیماری کا خاصا تعلق ماں کی محبت اور زندگی کے عوامل سے ہوتا ہے۔ بعض اوقات وض حمل میں وقت سے پہلے ماں کو انجیکشن لگا دیا جاتا ہے،جس سے ماں اور بچہ دونوں کے اعصاب بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ یا پیدائش کے دوران بچے میں آلودگی جانے سے سانس بند ہو جاتا ہے اور فوری I.C.U میں بھیج دیا جاتا [...]

بچوں میں شدید ضد، غصہ اور تنگ مزاجی ۔ ہومیوپیتھک علاج – ڈاکٹر بنارس خان اعوان2018-03-13T13:07:26+05:00

پِتے کا درد اور پتے کی پتھری – کامیاب ہومیوپیتھک علاج پر فیڈبیک – محمد امتیاز لاہور

میرا مرض اور علاج دونوں بہت تکلیف دہ تھے؛ جسمانی اور جذباتی دونوں حساب سے۔ جب میں (ERCP) کے مراحل سے گزرا تو وہ کربناک لمحات تھے۔ میں کتنی بار ہسپتال گیا، بے شمار ٹیسٹ کروائے، کئی بار الٹراساؤنڈ بھی اور مہنگی دوائیاں بھی کھائیں مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ کئی بار کچھ بہتری کے آثار نظر آئے مگر وہ صرف چند دنوں تک ہی محدود رہے۔ آئے دن کے میڈیکل ٹیسٹ، رپورٹس اور دیگر تشخیصی مراحل سے مَیں بہت بیزار اور صحت سے مکمل مایوس ہو چکا تھا۔ تین دن بعد میری ایک اَور (ERCP) طے تھی لیکن یہ تین دن میرے لئے بہت فکرمندی کے تھے۔ میں نے اپنا معاملہ حسین قیصرانی صاحب سے ڈسکس کیا۔ انہوں نے ہر بات مکمل توجہ سے نہ صرف سنی بلکہ لکھی بھی۔ تفصیلی گفتگو کے بعد انہوں نے مجھے ایک ہومیوپیتھک دوا کی چند گولیاں دیں۔ میں نے یہ دوا کیا لی کہ میری قسمت ہی کھل گئی۔اُن دنوں مجھے بالکل بھی بھوک نہیں لگتی تھی۔ اگر زورا مزوری چند لقمے کسی طرح کھا بھی لیتا تو بہت سخت قے آ جاتی. معدے میں کھانا ٹھہرتا ہی نہیں تھا۔ میں صرف جوس وغیرہ پر گزارا کر رہا تھا۔ دوائی لیے غالباً دوسرا دن تھا کہ ایک دوست کے ہاں [...]

پِتے کا درد اور پتے کی پتھری – کامیاب ہومیوپیتھک علاج پر فیڈبیک – محمد امتیاز لاہور2020-09-11T00:32:20+05:00

A Solved Case of Gallstones and Gallbladder pain – Homeopathic Treatment by Hussain Kaisrani

Mr Muhammad Imtiaz (he requested to disclose his identity), age 45 years, resident of Lahore, printer and publisher by profession, was known case of GALLSTONES / cholelithiasis / choledocholethiasis when (in April 2016) he came along for purpose of seeking relief from an acute exacerbation of his prolonged chronic gall bladder related issues. He was actively taking treatment from last two years when he showed up. This patient had a very significant and long journey of diagnostic and therapeutic interventions (both invasive and non-invasive) and a long series of lab tests which needs a detailed review.   Detailed history of presenting illness He has always been in good state of health with no major complaints / pains when back in 2013 he started feeling pain in right hypochondrium which occurred on and off initially. Then frequency of attacks increased with the passage of time. The pain was sudden in onset, severe in intensity, radiated to stomach and also to the back side along with rib cage. The attack of pain was usually followed by ingestion of fatty / oily / fried meals. The magnitude of pain used to raise to the point where he needed to see doctor on emergency basis and pain used to relieve by medication, pain killer injections [...]

A Solved Case of Gallstones and Gallbladder pain – Homeopathic Treatment by Hussain Kaisrani2018-05-21T12:05:26+05:00

شوگر، ذیابیطس، ذیابطیس: ہومیوپیتھک علاج و ادویات – حسین قیصرانی

خون میں شکر کا زیادہ پایا جانا یا پیشاب میں شکر کی زیادتی یعنی شوگر / ذیابطیس / ذیابیطس کسی مہلک موذی مرض سے کم نہیں۔ اس بیماری کو اہمیت نہ دینا یا علاج نہ کروانا بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ جس طرح ہر غذا ہمارے جسم کو قوت بخشتی ہے اور بدن کے اندر پہنچ کر حرارت پیدا کرتی ہے؛ اسی طرح میٹھی خوراک بھی قوت کا باعث بنتی ہے۔ نشاستہ اور شکر کے اجزاء ہاضمہ کے عمل سے ایک خاص قسم کی شکر بن جاتے ہیں۔ یہ ہاضمہ سے جذب ہو کر جگر میں پہنچتے ہیں۔ جگر کے عمل سے پھر ایک نشاستہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ نشاستہ ذخیرہ کے طور پر جگر میں جمع رہتا ہے اور پھر شکر میں تبدیل ہو کر ضرورت کے مطابق خون میں شامل ہوتا ہے۔ یہ شکر بدن کی ساختوں میں پہنچ کر قوت اور حرارت پیدا کرتی ہے۔ شکر کے اس طرح جلنے اور خرچ ہونے سے بخارات پیدا ہوتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے شکر کے اجزاء میں طبعی تغیرات واقع نہ ہوں اور وہ بدن میں خرچ نہ ہو سکیں تو خون میں اس کی مقدار بہت بڑھ جاتی ہے۔ ایک صحت مند انسان میں اس زائد شکر کو گردے پیشاب کے ذریعے نکال دیتے ہیں۔ [...]

شوگر، ذیابیطس، ذیابطیس: ہومیوپیتھک علاج و ادویات – حسین قیصرانی2019-01-06T13:44:11+05:00

لیکوریا ہومیوپیتھک علاج – فیڈبیک

صرف ایک خوراک اور اتنا اچھا رزلٹ؟ - ایک کلائنٹ کی خوشگوار حیرت (فیڈبیک) ابھی کل کی بات ہے کہ ایک خاتون (جو اس پیج کی ممبر ہیں) نے اِسی پیج پر رابطہ کر کے پوچھا کہ لیکیوریا کا مستقل علاج ممکن ہے؟ وہ کئی سالوں اور کئی طرح کے علاج کروانے کے بعد اب اِس مقصد کے لئے مزید دوائیاں کھانے کے لئے آمادہ نہیں تھیں۔ اُن کو بتایا گیا کہ صحیح علاج کے لئے مکمل اور تفصیلی کیس ڈسکس کرنا ضروری ہے۔ کل رات کو ہی وہ وقت مقرر کر کے تشریف لائیں۔ کوئی گھنٹہ بھر نشست ہوئی اور صرف چند گولیاں دوائی کی لے کر رخصت ہو گئیں۔ آج اپنے فیڈبیک میں خوشگوار حیرت کا اظہار فرماتے ہوئے کہا: "علاج کے پہلے دن، میں نے، ابھی صرف دوسری خوراک لی ہے؛ اِس لئے ابھی واضح طور پر تو کچھ کہنا مشکل ہے۔ جیسا کہ میں نے اپنے کیس میں بتایا تھا مجھے بھوک، پیاس اور جسمانی تکالیف کا کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ درد تکالیف عام طور پر ہفتہ میں ایک آدھ بار ہی ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ لیکن ایک بات میں ضرور شئیر کرنا چاہوں گی اور وہ یہ کہ میں نے آج صبح پہلی خوراک (ایک گولی) لی اور پھر سو گئی۔ اب جبکہ [...]

لیکوریا ہومیوپیتھک علاج – فیڈبیک2018-07-08T20:47:12+05:00

پروفیسر ڈاکٹر ایل ایم خان کے ڈینگی کیس کا رواں اردو ترجمہ (حسین قیصرانی)۔

اکیس سالہ نوجوان ڈینگی / ڈینگو کے حملے کا شکار ہوا (پاکستان میں اسے ڈینگی اور انڈیا میں بالعموم ڈینگو بولا جاتا ہے)۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ڈینگی دراصل جریانِ خون کے ذیل میں آتا ہے۔ مریض کی ہڈیوں میں سخت درد تھا۔ لیبارٹری ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ پلیٹلیٹس بہت ہی کم ہو چکے ہیں۔ درد کی کیفیت، جو کہ مریض نے بیان کی، آرنیکا کی تھی تاہم درد بہت ہی شدت کا تھا اور سر سے پاؤں تک گویا سارے بدن میں۔ انکھوں کے ڈھیلے سخت درد جیسے وہاں زخم ہوں۔ بخار اکثر صبح کو ہوتا جس میں پیاس بہت کم تھی۔ یوپیٹوریم پرف 200 تجویز کی گئی۔ دوا کا فوری اثر یہ ہوا کہ پلیٹلیٹس کی تعداد بڑھ گئی۔ اگلے دو دن میں نوجوان کا بخار بالکل اُتر گیا مگر کمزوری اور بے پناہ تھکاوٹ میں کوئی کمی واقع نہ ہو سکی۔ جونہی بخار اُترا اور طبیعت ذرا سنبھلی، مریض نے آرام اور خوراک کی احتیاط چھوڑ دی۔ دوبارہ بخار ہوا اور بہت تیز جس میں کپکپاہٹ اور کمزوری عروج پر تھی۔ آنکھ کے ڈھیلے میں بھاری پن کا احساس نمایاں ہونے کے ساتھ ساتھ چکر بھی آنے لگے۔ کمر میں سردی کی لہر کی سی کیفیت تھی۔ مریض کو چُپ لگ گئی اور اُس کی پیاس [...]

پروفیسر ڈاکٹر ایل ایم خان کے ڈینگی کیس کا رواں اردو ترجمہ (حسین قیصرانی)۔2018-02-13T09:48:11+05:00

LATEST POSTS

Top Sliding Bar

This Sliding Bar can be switched on or off in theme options, and can take any widget you throw at it or even fill it with your custom HTML Code. Its perfect for grabbing the attention of your viewers. Choose between 1, 2, 3 or 4 columns, set the background color, widget divider color, activate transparency, a top border or fully disable it on desktop and mobile.

Fusce ut ipsum tincidunt, porta nisl sollicitudin, vulputate nunc. Cras commodo leo ac nunc convallis ets efficitur.

RECENT TWEETS

CONTACT US

  • 12345 North Main Street, New York, NY 555555
  • 1.800.555.6789
  • support@yoursite.com